نئی دہلی،2مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) امرپالی معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک بھر میں بلڈروں نے افسروں اور بینکوں کی ملی بھگت سے قوانین توڑکر بلند اونچی عمارتوں بنا لی ہیں۔بڑے پیمانے پر ایسی دھوکہ دہی ہندوستان میں ہی ممکن ہے، لیکن ہم کرپشن کے لئے پھانسی نہیں دے سکتے۔سپریم کورٹ نے امرپالی معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ آسمان کی بلندی تک لوگوں سے دھوکہ کیا گیا ہے۔کورٹ نے کہاکہ جو بھی طاقتور لوگ آپ لوگوں کے پیچھے کھڑے ہیں ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے،سب کے خلاف مجرمانہ کیس چلے گا، اگلی سماعت جمعرات کو ہوگی۔کرشنن وینو گوپال ننے کہاکہ یہ پورا معاملہ عوامی اعتماد کو توڑنے سے منسلک ہے،اتھارٹی اور بینکوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کے مفاد کی حفاظت کرتے، جو نہیں ہوا،اب اتھارٹی ریرا کے تحت طے کرے کہ کس طرح کام پوراہوگا۔جسٹس ارون مشرانے کہاکہ ادائیگی کا دوسرا شیڈول بنایا گیا تھا اس گریٹر نوئیڈا اتھارٹی نے مانیٹر تک نہیں کیا،اگر بلڈر نے خرابی کی تو اس کا رجسٹریشن رد ہونا چاہیے تھا،اتھارٹی نے اس معاملے میں غلط کیا ہے۔آپ نے اور بینکرس نے لوگوں کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے،اس طرح کے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی ہندوستان میں ہی ممکن ہے، کیونکہ اتھارٹی اور بینکرس دونوں کی ملی بھگت تھی،بینکرس نے عوامی اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کیا۔جسٹس ارون مشرانے کہاکہ آپ لوگوں نے سنگین دھوکہ دہی کی ہے،آپ نے سب کو دھوکہ دیا،چپراسی کو ڈائریکٹر بنایا، ہمارے ناک کے سامنے آپ نے یہ سب کیاہے،سب کچھ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے،آسمان کی بلندی تک آپ نے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیاہے،جو بھی طاقتورلوگ آپ کے پیچھے ہیں، کوئی نہیں بچے گا،ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔